سنن أبي داود حدیث نمبر: 2569
Sunan Abi Dawud 2569
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
63: باب فِي سُرْعَةِ السَّيْرِ وَالنَّهْىِ عَنِ التَّعْرِيسِ، فِي الطَّرِيقِ
باب: سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ، فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ فَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ، فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيقِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۳؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2569]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں کچھ دیر چرنے کے لئے چھوڑ دو۔
۲؎: تاکہ قحط والی زمین جلدی سے طے کر لو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔
۳؎: کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں۔
۲؎: تاکہ قحط والی زمین جلدی سے طے کر لو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔
۳؎: کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1926)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12626)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 54 (1926)، سنن الترمذی/الأدب 75 (2858)، مسند احمد (2/337) (صحیح)