سنن أبي داود حدیث نمبر: 2564
Sunan Abi Dawud 2564
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
58: باب النَّهْىِ عَنِ الْوَسْمِ، فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ
باب: چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: " أَمَا بَلَغَكُمْ أَنِّي قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَةَ فِي وَجْهِهَا أَوْ ضَرَبَهَا فِي وَجْهِهَا"، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2564]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2117)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2757)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 29 (2117)، سنن الترمذی/الجھاد 30 (1710)، مسند احمد (3/323) (صحیح)