سنن أبي داود حدیث نمبر: 2553
Sunan Abi Dawud 2553
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
50: باب إِكْرَامِ الْخَيْلِ وَارْتِبَاطِهَا وَالْمَسْحِ عَلَى أَكْفَالِهَا
باب: گھوڑوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے اور ان کے پٹھوں پر ہاتھ پھیرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا، أَوْ قَالَ أَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا، وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ".
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہیں (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت حاصل تھی - وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ (پٹہ) پہناؤ، اور انہیں (نظر بد سے بچنے کے لیے) تانت کا قلادہ نہ پہنانا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2553]
💡 وضاحت:
۱؎: گھوڑے کو تیار کرنے سے یہ کنایہ ہے کہ ان کو جہاد کے لئے فربہ کرنا، اور ہاتھ پھیرنے سے مقصود ان کے جسم کو گردوغبار سے صاف کرنا اور ان کی فربہی معلوم کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں گھوڑے کی گردنوں میں کمان کے چلے باندھتے تھے تاکہ نظر بد نہ لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کے لئے اس سے منع فرمایا کہ اس سے گھوڑے کا گلا نہ گھٹ جائے، نیز یہ عمل تقدیر کو رد نہیں کر سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ انظر الحديثين السابقين (2543،2544) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم (2543)، (تحفة الأشراف: 15520) (حسن)