سنن أبي داود حدیث نمبر: 2522
Sunan Abi Dawud 2522
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
28: باب فِي الشَّهِيدِ يُشَفَّعُ
باب: شہید کی شفاعت کی قبولیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَةَ الذِّمَارِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ، وَنَحْنُ أَيْتَامٌ فَقَالَتْ: أَبْشِرُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُشَفَّعُ الشَّهِيدُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: صَوَابُهُ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ.
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (ولید بن رباح کے بجائے) صحیح رباح بن ولید ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2522]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وله شاھد عند الترمذي (1663) وابن ماجه (2799 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10999) (صحیح)