سنن أبي داود حدیث نمبر: 2491
Sunan Abi Dawud 2491
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
10: باب فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ
باب: سمندر میں جہاد کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَاتَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ بِقُبْرُصَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے، یہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ۱؎، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2491]
💡 وضاحت:
۱؎: ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں یا آپ کے والد یا دادا کی خالہ تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2788، 2789) صحيح مسلم (1912)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجھاد 3 (2788)، الاستئذان 41 (6282)، التعبیر 12 (7001)، صحیح مسلم/الجہاد 49 (1912)، سنن الترمذی/الجھاد 15 (1645)، سنن النسائی/الجھاد 40 (3173)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 18 (39)، (تحفة الأشراف: 199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/240) (صحیح)