سنن أبي داود حدیث نمبر: 2487
Sunan Abi Dawud 2487
کتاب #15: کتاب: جہاد کے مسائل
7: باب فِي فَضْلِ الْقَفْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: جہاد سے (فارغ ہو کر) لوٹنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ شُفَيِّ بْنِ مَاتِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد سے لوٹنا (ثواب میں) جہاد ہی کی طرح ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2487]
💡 وضاحت:
۱؎: جہاد سے لوٹنا ثواب میں جہاد ہی کی طرح اس لئے ہے کہ مجاہد جس وقت جہاد کے لئے نکلا تھا اس وقت اس کے لئے جو تیاری کی اس تیاری سے اسے اور اس کے اہل وعیال کو جو پریشانی لاحق ہوئی اب مجاہد کے لوٹنے سے وہ پریشانی ختم ہو جائے گی اور اپنے اہل و عیال میں واپس آجانے سے اسے جو طاقت و قوت حاصل ہوگی اس سے وہ اس لائق ہو جائے گا کہ دوبارہ جہاد کے لئے نکل سکے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3841)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8826)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174) (صحیح)