سنن أبي داود حدیث نمبر: 248
Sunan Abi Dawud 248
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
99: باب الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت کے طریقے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ حَدِيثُهُ مُنْكَرٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم (غسل کرتے وقت) بالوں کو اچھی طرح دھوو، اور کھال کو خوب صاف کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن وجیہ کی حدیث منکر ہے، اور وہ ضعیف ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 248]
💡 وضاحت:
۱؎: صرف پہلا ٹکڑا منکر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (106)،ابن ماجه (597) ¤ الحارث بن وجيه: ضعيف ضعفه أبو داود وقال ابن حجر: ضعيف (تقريب: 1056) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 22
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطھارة 78 (106) سنن ابن ماجہ/الطھارة 106(597)، (تحفة الأشراف: 14502) (ضعیف) (حارث ضعیف ہے جیسا کہ مؤلف نے تصریح کی ہے)