سنن أبي داود حدیث نمبر: 2455
Sunan Abi Dawud 2455
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
73: باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: روزے کی نیت نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ، قَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ؟ فَإِذَا قُلْنَا: لَا. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ". زَادَ وَكِيعٌ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَحَبَسْنَاهُ لَكَ. فَقَالَ: أَدْنِيهِ. قَالَ طَلْحَةُ: فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَأَفْطَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ جب میں کہتی: نہیں، تو فرماتے: ”میں روزے سے ہوں“، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیے میں (کھجور، گھی اور پنیر سے بنا ہوا) ملیدہ آیا ہے، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لاؤ اسے حاضر کرو“۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2455]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1154)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصیام 32 (1154)، سنن الترمذی/الصوم 35 (734)، سنن النسائی/الصیام 39 (2327)، سنن ابن ماجہ/الصیام 26 (1701)، (تحفة الأشراف: 17872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/49، 207) (حسن صحیح)