سنن أبي داود حدیث نمبر: 2443
Sunan Abi Dawud 2443
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
65: باب فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
باب: یوم عاشورہ (دسویں محرم) کے روزہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2443]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4501) صحيح مسلم (1126)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 69 (2002)، والتفسیر 24 (4501)، صحیح مسلم/الصیام 20 (1126)، (تحفة الأشراف: 8146)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 41 (1737)، مسند احمد (2/57)، سنن الدارمی/الصوم 46 (1803) (صحیح)