سنن أبي داود حدیث نمبر: 2427
Sunan Abi Dawud 2427
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
53: باب فِي صَوْمِ الدَّهْرِ تَطَوُّعًا
باب: سدا نفلی روزے سے رہنا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُلْتُ ذَاكَ. قَالَ: قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَذَاكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ. قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟“ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے“۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو“ وہ کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور داود علیہ السلام کا روزہ ہے“ میں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے افضل کوئی روزہ نہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2427]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1976) صحيح مسلم (1159)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 56 (1976)، وأحادیث الأنبیاء 38 (3418)، /النکاح 90 (5199)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8645، 8960)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 57 (770)، سنن النسائی/الصوم 45 (2394)، سنن ابن ماجہ/الصیام 31 (1721)، مسند احمد (2/160، 164)، سنن الدارمی/الصوم 42 (1793) (صحیح)