سنن أبي داود حدیث نمبر: 2376
Sunan Abi Dawud 2376
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
30: باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَلِمُ نَهَارًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: رمضان میں روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنِ احْتَلَمَ وَلَا مَنِ احْتَجَمَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2376]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ رجل من أصحاب زيد بن أسلم لم أعرفه ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند الدارقطني (183/1) والبزار (1016،1017) وغيرھما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15701) (ضعیف) (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہے)