سنن أبي داود حدیث نمبر: 2373
Sunan Abi Dawud 2373
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
29: باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی (پچھنا) لگوایا، آپ روزے سے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2373]
💡 وضاحت:
۱؎: حالت احرام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوں، یہ بات بعید از قیاس ہے، یہی یزید بن ابی زیاد کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے، ہاں کبھی روزے کی حالت میں، اور کبھی احرام کی حالت میں بچھنا لگوانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں «احتجم وهو صائم، واحتجم وهو محرم» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی (پچھنا) لگوائی جبکہ آپ روزے سے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی جبکہ آپ محرم تھے)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (777) ¤ يزيد بن أبي زياد: ضعيف ¤ والحديث السابق (الأصل: 2372) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصیام 61 (777)، سنن ابن ماجہ/الصیام 18 (1682)، (تحفة الأشراف: 6495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 222، 286) (ضعیف) (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں)