سنن أبي داود حدیث نمبر: 2369
Sunan Abi Dawud 2369
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
28: باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ
باب: روزہ دار سینگی (پچھنا) لگوائے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، بِإِسْنَادِ أَيُّوبَ، مِثْلَهُ.
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص کے پاس آئے جو کہ سینگی لگا رہا تھا، آپ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، یہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کا واقعہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سینگی (پچھنا) لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خالد الحذاء نے ابوقلابہ سے ایوب کی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2369]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2012) ¤ انظر الحديث السابق (2367، 2368)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4818)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری (3141)، مسند احمد (4/122، 1224) (صحیح)