سنن أبي داود حدیث نمبر: 2363
Sunan Abi Dawud 2363
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
25: باب الْغِيبَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزے میں غیبت کی برائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ (برائیوں سے بچنے کے لیے) ڈھال ہے، جب تم میں کوئی صائم (روزے سے ہو) تو فحش باتیں نہ کرے، اور نہ نادانی کرے، اگر کوئی آدمی اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو اس سے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2363]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1894) صحيح مسلم (1151)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 2 (1894)، 9 (1904)، سنن النسائی/الصیام 23 (2218)، سنن ابن ماجہ/الصیام 21 (1691)، (تحفة الأشراف: 13817)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام 30 (1151)، سنن الترمذی/الصوم 55 (764)، موطا امام مالک/الصیام 22 (57)، مسند احمد (2/232)، سنن الدارمی/الصوم 50 (1812) (صحیح)