سنن أبي داود حدیث نمبر: 2355
Sunan Abi Dawud 2355
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
21: باب مَا يُفْطَرُ عَلَيْهِ
باب: افطار کس چیز سے کیا جائے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَمِّهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ فَعَلَى الْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ".
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎ سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2355]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے نگاہ کو طاقت ملتی ہے اور روزے سے پیدا ہونے والی نقاہت دور ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1990) ¤ أخرجه ابن ماجه (1699 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2067 وسنده حسن) الرباب بنت صليع ثقة وثقھا الترمذي وابن حبان والحاكم وأخطأ من جھلھا وضعّف الحديث
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزکاة 26 (658)، الصوم 10 (695)، سنن ابن ماجہ/الصیام 25 (1699)، (تحفة الأشراف: 4486)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/18، 214)، سنن الدارمی/الصوم 12 (1743) (ضعیف) (کیونکہ رباب لین الحدیث ہیں) اس حدیث کی تصحیح ترمذی، ابن خزیمة، ابن حبان نے کی ہے، البانی نے پہلے اس کی تصحیح کی تھی، بعد میں اسے ضعیف الجامع الصغیر میں رکھ دیا (369) تراجع الالبانی (132)۔