سنن أبي داود حدیث نمبر: 2352
Sunan Abi Dawud 2352
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
19: باب وَقْتِ فِطْرِ الصَّائِمِ
باب: روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: " سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: " يَا بِلَالُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ؟ قَالَ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: " انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا"، فَنَزَلَ فَجَدَحَ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! (سواری سے) اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو“، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو“، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اترو، اور ہمارے لیے ستو گھولو“، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا: ”جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2352]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1955) صحيح مسلم (1101)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 33 (1941)، 43 (1955)، 45 (1958)، والطلاق 22 (5297)، صحیح مسلم/الصیام 11(1101)، (تحفة الأشراف: 5163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/380، 382) (صحیح)