سنن أبي داود حدیث نمبر: 2349
Sunan Abi Dawud 2349
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
17: باب وَقْتِ السُّحُورِ
باب: سحری کھانے کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ الْمَعْنَى، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187، قَالَ: أَخَذْتُ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ فَوَضَعْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادَتِي، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَبَيَّنْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ: " إِنَّ وِسَادَكَ لَعَرِيضٌ طَوِيلٌ، إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ". وقَالَ عُثْمَانُ: " إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ”یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۷) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے (صبح صادق جاننے کی غرض سے) رکھ لی، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے، ”تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے، اس سے مراد رات اور دن ہے“۔ عثمان کی روایت میں ہے: ”اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2349]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1916) صحيح مسلم (1090)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 16(1916)، وتفسیر البقرة 28 (4509)، صحیح مسلم/الصیام 8 (1090)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 17 (2970م)، (تحفة الأشراف: 9856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/377)، سنن الدارمی/الصوم 7 (1736) (صحیح)