📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: روزوں کے احکام و مسائل (كتاب الصيام) 🏷️ باب: باب: اواخر شعبان کے روزے کی کراہت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 2337 Sunan Abi Dawud 2337
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
12: باب فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ
باب: اواخر شعبان کے روزے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَدِينَةَ، فَمَالَ إِلَى مَجْلِسِ الْعَلَاءِ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ، فَلَا تَصُومُوا"، فَقَالَ الْعَلَاءُ: اللَّهُمَّ إِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَ شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَ أَبُو عُمَيْسٍ، وَ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا يُحَدِّثُ بِهِ. قُلْتُ لِأَحْمَدَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ، وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي خِلَافُهُ، وَلَمْ يَجِئْ بِهِ غَيْرُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ.
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن ابن مہدی) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو (روزہ رکھ کر) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ۱؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2337]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھی، اور یہ بات عام امت کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1974)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصوم 38 (738)، سنن ابن ماجہ/الصیام 5 (1651)، (تحفة الأشراف: 14051)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 34 (1781) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #2337
2335 2336 2337 2338 2339
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ