سنن أبي داود حدیث نمبر: 2318
Sunan Abi Dawud 2318
کتاب #14: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
3: باب مَنْ قَالَ هِيَ مُثْبَتَةٌ لِلشَّيْخِ وَالْحُبْلَى
باب: بوڑھوں اور حاملہ کے حق میں مذکورہ بالا حکم باقی ہے اس کے قائلین کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، قَالَ: كَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ أَنْ يُفْطِرَا، وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي عَلَى أَوْلَادِهِمَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» زیادہ بوڑھے مرد و عورت (جو کہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں) کے لیے رخصت ہے کہ روزے نہ رکھیں، بلکہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں، فدیہ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2318]
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5565) (شاذ) (اس لئے کہ زیادہ بوڑھوں کے لئے اب بھی فدیہ جائز ہے، اور حاملہ و مرضعہ کا حکم فدیہ کا نہیں ہے بلکہ بعد میں روزے رکھ لینے کا ہے)