سنن أبي داود حدیث نمبر: 2307
Sunan Abi Dawud 2307
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
47: باب فِي عِدَّةِ الْحَامِلِ
باب: حاملہ کی عدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ۱؎ کر لے کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2307]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔
۲؎: جو کہ سورہ البقرہ میں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورہ بقرہ میں ہے “، اور ”حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورہ طلاق کے اندر ہے جو کہ سورہ بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
۲؎: جو کہ سورہ البقرہ میں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورہ بقرہ میں ہے “، اور ”حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورہ طلاق کے اندر ہے جو کہ سورہ بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2030) ¤ الأعمش مدلس وعنعن ¤ وللحديث شواھد ضعيفة (انظر ضعيف سنن النسائي: 3552) ¤ وحديث البخاري (4532) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ تفسیرسورة الطلاق 2 (4909)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3552)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2030)، (تحفة الأشراف: 9578) (صحیح)