📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل (كتاب تفريع أبواب الطلاق) 🏷️ باب: باب: حاملہ کی عدت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 2307 Sunan Abi Dawud 2307
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
47: باب فِي عِدَّةِ الْحَامِلِ
باب: حاملہ کی عدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ۱؎ کر لے کہ چھوٹی سورۃ نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2307]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔
۲؎: جو کہ سورہ البقرہ میں ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ کہ عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورہ بقرہ میں ہے ، اور حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے کا تذکرہ سورہ طلاق کے اندر ہے جو کہ سورہ بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2030) ¤ الأعمش مدلس وعنعن ¤ وللحديث شواھد ضعيفة (انظر ضعيف سنن النسائي: 3552) ¤ وحديث البخاري (4532) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ تفسیرسورة الطلاق 2 (4909)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3552)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 7 (2030)، (تحفة الأشراف: 9578) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #2307
2305 2306 2307 2308 2309

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2306 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَن...
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ