سنن أبي داود حدیث نمبر: 228
Sunan Abi Dawud 228
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
91: باب فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ
باب: جنبی نہانے میں دیر کرے اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَمَسَّ مَاءً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں بغیر غسل فرمائے سو جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے حسن بن علی واسطی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا کہ یہ حدیث یعنی ابواسحاق کی حدیث وہم ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 228]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ابن العربی کی تصریح کے مطابق یہ وہم ایک طویل حدیث کے اختصار میں واقع ہوا ہے، ورنہ اصل معنی صحیح ہے، یعنی کبھی کبھی بیان جواز کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ غسل کیا نہ ہی وضو، یا یہ مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی نہیں چھوا، یعنی غسل نہیں کیا، ہاں وضو کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (118)،ابن ماجه (581583) ¤ أبو إسحاق مدلس (تقدم: 162) صرح بالسماع عند البيهقي (1/ 201،202) ولكن السند إليه ضعيف (!) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 21
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطھارة 87 (119)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 98 (583)، (تحفة الأشراف: 16023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43) (صحیح)