سنن أبي داود حدیث نمبر: 2266
Sunan Abi Dawud 2266
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
30: باب فِي ادِّعَاءِ وَلَدِ الزِّنَا
باب: ولد الزنا کے مدعی ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: " وَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً، وَذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى".
اس سند سے بھی محمد بن راشد سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام، یہ شروع اسلام میں پیش آمدہ معاملہ کا حکم ہے، رہا جو مال قبل از اسلام تقسیم ہو چکا اس سے کچھ سروکار نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2266]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (2265)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8712) (حسن)