سنن أبي داود حدیث نمبر: 2203
Sunan Abi Dawud 2203
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
12: باب فِي الْخِيَارِ
باب: عورت کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ شَيْئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2203]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے طلاق قرار نہیں دیا، اکثر علماء کی یہی رائے ہے کہ جب شوہر بیوی کو اختیار دے اور وہ شوہر ہی کو اختیار کرلے تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور زید بن ثابت اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک طلاق پڑ جائے گی، مگر پہلی بات ہی ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5262) صحيح مسلم (1477)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 5 (5262)، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1477)، سنن الترمذی/الطلاق 4 (1179)، سنن النسائی/النکاح 2 (3204) والطلاق 27 (3474)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (2052)، (تحفة الأشراف: 17634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 47، 171، 173، 185، 202، 205، 239)، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2315) (صحیح)