سنن أبي داود حدیث نمبر: 2200
Sunan Abi Dawud 2200
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
10: باب نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ الثَّلاَثِ
باب: تین طلاق کے بعد رجعت کا اختیار باقی نہ رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتْ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَبِي بَكْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ؟" قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " نَعَمْ".
طاؤس سے روایت ہے کہ ابوصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2200]
💡 وضاحت:
۱؎: ائمہ حدیث اور علما ظاہر کا اسی پر عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1472)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطلاق 2 (1472)، سنن النسائی/الطلاق 8 (3435)، (تحفة الأشراف: 5715)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/314) (صحیح)