سنن أبي داود حدیث نمبر: 2190
Sunan Abi Dawud 2190
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
7: باب فِي الطَّلاَقِ قَبْلَ النِّكَاحِ
باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا طَلَاقَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ، زَادَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: وَلَا وَفَاءَ نَذْرٍ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں، اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں“۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ (تمہارے ذمہ) صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2190]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3282) ¤ رواه الترمذي (1181 وسنده حسن) وابن ماجه (2047 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8736، 8804)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/189، 190)، سنن الترمذی/الطلاق 6 (1181)، ق 17 (2047) (حسن)