سنن أبي داود حدیث نمبر: 2187
Sunan Abi Dawud 2187
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
6: باب فِي سُنَّةِ طَلاَقِ الْعَبْدِ
باب: غلام کی طلاق میں سنت کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کر دیئے گئے، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ دیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2187]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (3457،3458) ابن ماجه (2082) ¤ عمر بن معتب ضعيف (تقريب التهذيب: 4971) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 82
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الطلاق 19 (3457)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 32 (2082)، (تحفة الأشراف: 6561)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/229، 334) (ضعیف)