سنن أبي داود حدیث نمبر: 2153
Sunan Abi Dawud 2153
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
44: باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ
باب: نظر نیچی رکھنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا"، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: " وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2153]
💡 وضاحت:
۱؎: چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن م دون جملة الفم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح، صحيح مسلم (2657)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/343، 536) (حسن)