سنن أبي داود حدیث نمبر: 215
Sunan Abi Dawud 215
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
85: باب فِي الإِكْسَالِ
باب: دخول سے انزال کے بغیر غسل کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْبَزَّازُ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، " أَنّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَفْتُونَ أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ پانی، پانی سے (لازم آتا) ہے (یعنی منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے) یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 215]
💡 وضاحت:
تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں زوجین کے لیے اجازت تھی کہ مباشرت کے موقع پر اگر انزال نہ ہو تو غسل واجب نہیں۔ اس کیفیت کو ایک بلیغ انداز میں بیان فرمایا ”پانی پانی سے (لازم آتا) ہے۔“ یعنی غسل کا پانی منی کا پانی نکلنے ہی پر لازم آتا ہے، مگر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور فرمایا ”ختنہ ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ جیسے کہ اگلی حدیث ۲۱۶ میں ذکر آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبله، أخرجه: الدارمي/ الطهارة، باب: الماء من الماء، ح:766 عن محمد بن مهران الجمال به، ورواه اابن ماجه/أبواب التيمم/ . باب: ما جاء فى وجوب الغسل من التقاء الختانين/ ح: 609، (تحفة الأشراف: 27) (صحيح)