سنن أبي داود حدیث نمبر: 2125
Sunan Abi Dawud 2125
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
36: باب فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُنْقِدَهَا شَيْئًا
باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا شَيْئًا"، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: " أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: ”اسے کچھ دے دو“، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے؟“ ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2125]
💡 وضاحت:
۱؎: ”حطمي“: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر سنن النسائي (3377 وسنده صحيح، 3378) وللحديث طرق أخريٰ، أنظر مسند الحميدي (38 بتحقيقي)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/النکاح 76 (3378)، (تحفة الأشراف: 6000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/8) (حسن صحیح)