سنن أبي داود حدیث نمبر: 2096
Sunan Abi Dawud 2096
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
25: باب فِي الْبِكْرِ يُزَوِّجُهَا أَبُوهَا وَلاَ يَسْتَأْمِرُهَا
باب: کنواری لڑکی کا نکاح اس سے پوچھے بغیر اس کا باپ کر دے تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2096]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کر لے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (3136) ¤ أخرجه ابن ماجه (1875 وسنده حسن) وللحديث شواھد
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/النکاح 12 (1875)، (تحفة الأشراف: 6001، 19103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/273) (صحیح)