سنن أبي داود حدیث نمبر: 2081
Sunan Abi Dawud 2081
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ". قالَ سُفْيَانُ: لا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ يَقُولُ عِنْدِي خَيْرٌ مِنْهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/حدیث: 2081]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5142) صحيح مسلم (1412)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8009، 8185)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، النکاح 45 (5142)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، البیوع 8 (1412)، سنن الترمذی/البیوع 57 (1134)، سنن النسائی/النکاح 20 (3240)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1868)، موطا امام مالک/النکاح 1(2)، والبیوع 45(95)، مسند احمد (2/122، 124، 126، 130، 142، 153)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2222)، البیوع 33 (2609) (صحیح)