سنن أبي داود حدیث نمبر: 2071
Sunan Abi Dawud 2071
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
13: باب مَا يُكْرَهُ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ
باب: ان عورتوں کا بیان جنہیں بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: " إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا". وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے ۱؎ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرانے کی اجازت مجھ سے مانگی ہے تو میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، ہاں اگر علی ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، کیونکہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2071]
💡 وضاحت:
۱؎: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں سے مراد ابوالحکم عمرو بن ہشام جسے ابوجہل کہتے ہیں کے بھائی حارث بن ہشام اور سلمہ بن ہشام ہیں جو فتح مکہ کے سال اسلام لے آئے تھے اور اس میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ بھی داخل ہیں جو سچے مسلمان تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5230) صحيح مسلم (2449)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 12 (3714)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 14 (2449)، سنن الترمذی/المناقب 61 (3867)، سنن النسائی/الکبری/ المناقب (8370، 8371)، (تحفة الأشراف: 11267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/328) (صحیح)