📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: طہارت کے مسائل (كِتَاب الطَّهَارَةِ) 🏷️ باب: باب: نجاست اور گندگی پر چلے تو کیا حکم ہے؟
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 204 Sunan Abi Dawud 204
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
81: باب فِي الرَّجُلِ يَطَأُ الأَذَى بِرِجْلِهِ
باب: نجاست اور گندگی پر چلے تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي شَرِيكٌ، وَجَرِيرٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ" كُنَّا لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلَا نَكُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ فِيهِ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ هَنَّادٌ: عَنْ شَقِيقٍ، أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھلتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے (یعنی اسی طرح نماز پڑھ لیتے تھے)۔ (اس حدیث کی سند میں) ابراہیم بن ابی معاویہ نے یوں کہا ہے «عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عبد الله» (یعنی مسروق کے اضافہ کے ساتھ) نیز یہ بھی کہ یہ سند یا تو «عن الأعمش عن شقيق قال قال عبد الله» (بلفظ «عن» ) ہے یا «الأعمش حدث عن شقيق» (بلفظ تصریح تحدیث)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 204]
💡 وضاحت:
انسان اگر گندگی اور نجاست پر سے گزرے اور بعد میں خشک زمین پر چلے اس طرح کہ سب کچھ اتر جائے، تو جسم اور کپڑا پاک ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس کا جرم (وجود) باقی رہے تو دھونا ضروری ہو گا۔ چمڑے کے موزے اور جوتے کو زمین پر رگڑنا ہی کافی ہوتا ہے۔ اثنائے نماز میں بالوں اور کپڑوں کو ان کی ہیئت سے سمیٹنا جائز نہیں۔ سر یا کندھے کے کپڑے کا لٹکانا (سدل کرنا) جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (1041) ¤ الأعمش عنعن (تقدم: 14) وشك فيمن حدثه فالسند معلل قال الأعمش: ’’حدثني شقيق (أبو وائل) أو حدثت عنه‘‘ فالسند معلل ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
تخریج دارالدعوہ: أخرجه: سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/ باب: كف الشعر والثوب فى الصلاة/ ح: 1041 من حديث عبد الله بن إدريس به ٭ شك سليمان الأعمش فيمن حدثه، فالسند معلل. (تحفة الأشراف: 9268)، حديث ابراهيم بن أبى معاوية عن أبى معاوية تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 9564)، وحديث هناد عن أبى معاوية وعثمان عن شريك وجرير وعبدالله بن ادريس، وقد أخرجه: سنن ترمذي/كتاب الطهارة/ باب ما جاء فى الوضوء من الموطإ/ ح: 143 تعليقاً (صحيح)
سنن أبي داود • حدیث #204
202 203 204 205 206
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ