سنن أبي داود حدیث نمبر: 20
Sunan Abi Dawud 20
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
11: باب الاِسْتِبْرَاءِ مِنَ الْبَوْلِ
باب: پیشاب سے پاکی کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّهُمَا يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا هَذَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا هَذَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، وَقَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا"، قَالَ هَنَّادٌ: يَسْتَتِرُ مَكَانَ يَسْتَنْزِهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(قبر میں مدفون) ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں، ان میں سے یہ شخص تو پیشاب سے پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا یہ تو یہ چغل خوری میں لگا رہتا تھا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے بیچ سے پھاڑ کر دونوں قبروں پر ایک ایک شاخ گاڑ دی پھر فرمایا ”جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں شاید ان کا عذاب کم رہے“۔ ھناد نے «يستنزه» کی جگہ «يستتر» (پردہ نہیں کرتا تھا) ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 20]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6052) صحيح مسلم (292)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 55 (216)، 56 (218)، الجنائز 81 (1361)، 88 (1378)، الأدب 46 (6052)، 49 (6055)، صحیح مسلم/الطھارة 34 (292)، سنن الترمذی/الطھارة 53 (70)، سنن النسائی/الطھارة 27 (31)، الجنائز 116 (2067)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 26 (347)، (تحفة الأشراف: 5747)، مسند احمد (1/225)، سنن الدارمی/الطھارة 61 (766) (صحیح)