سنن أبي داود حدیث نمبر: 191
Sunan Abi Dawud 191
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
75: باب فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: " قَرَّبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 191]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3063)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، سنن الترمذی/الطھارة 59 (80)، سنن النسائی/الطھارة 123 (185)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (489)، مسند احمد (3/322) (صحیح)