سنن أبي داود حدیث نمبر: 1720
Sunan Abi Dawud 1720
کتاب #10: کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
1: باب
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا، فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا نَدْرِي لِمَنْ هِيَ، فَقَالَ جَرِيرٌ: أَخْرِجُوهَا، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ".
منذر بن جریر کہتے ہیں میں جریر کے ساتھ بوازیج ۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی، جریر نے اس سے پوچھا: یہ کیسی گائے ہے؟ اس نے کہا: یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے، جریر نے کہا: اسے نکالو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے“ ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1720]
💡 وضاحت:
۱؎: ”بوازيج“: (عراق میں) نہر دجلہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تا کہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: «من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها» جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تا کہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: «من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها» جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (2503) ¤ فيه علة قادحةرواه ابن ماجه من حديث أبي حيان التيمي عن الضحاك بن المنذر خال المنذر بن جرير عن المنذر بن جرير به إلخ و الضحاك مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده ¤ و روي مسلم (1735) عن زيد بن خالد الجهني رضي اللّٰه عنه عن رسول اللّٰه ﷺ قال:((من آوي ضالة فھو ضال مالم يعرّفھا)) وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الکبری (5799)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 1 (2503)، (تحفة الأشراف:3233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/360، 362) (صحیح) (مرفوع حصہ صحیح ہے)