سنن أبي داود حدیث نمبر: 1712
Sunan Abi Dawud 1712
کتاب #10: کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
1: باب
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ، وقَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ: " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، خُذْهَا قَطُّ"، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ، وَ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَخُذْهَا".
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو“۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے پکڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1712]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/ قطع السارق 8 (4960)، (تحفة الأشراف:8755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن)