سنن أبي داود حدیث نمبر: 171
Sunan Abi Dawud 171
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
66: باب الرَّجُلِ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ
باب: آدمی ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھ سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ أَبُو أَسَدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ".
عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں: عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 171]
💡 وضاحت:
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ہر نماز کے لیے تازہ وضو کیا کرتے تھے، تو یہ آپ کا غالب معمول تھا، ورنہ بعض مواقع پر آپ نے بھی ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں پڑھی ہیں، جیسا کہ اگلی روایت حدیث ۱۷۲سے بھی واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (214)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطھارة 54 (214)، سنن الترمذی/الطھارة 44 (60)، سنن النسائی/الطھارة 101 (131)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 72 (509)، (تحفة الأشراف: 1110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/132، 194، 260، سنن الدارمی/الطھارة 46 (747) (صحیح)