سنن أبي داود حدیث نمبر: 1709
Sunan Abi Dawud 1709
کتاب #10: کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
1: باب
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1709]
💡 وضاحت:
۱؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں آگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہو جائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مر جائے اوراس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3039) ¤ أخرجه ابن ماجه (2505 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/ الکبری (5808، 5809)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2505)، (تحفة الأشراف:11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162) (صحیح)