سنن أبي داود حدیث نمبر: 1691
Sunan Abi Dawud 1691
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
46: باب فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
باب: رشتے داروں سے صلہ رحمی (اچھے برتاؤ) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عِنْدِي دِينَارٌ، فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ، أَوْ قَالَ: زَوْجِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ"، قَالَ: عِنْدِي آخَرُ، قَالَ: " أَنْتَ أَبْصَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے کام میں لے آؤ“، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے بیٹے کو دے دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنی بیوی کو دے دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے خادم کو دے دو“، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1691]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (1940) ¤ أخرجه النسائي (2536 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/251، 471)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 54 (2536)، (تحفة الأشراف: 13041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/251، 471) (حسن)