سنن أبي داود حدیث نمبر: 1681
Sunan Abi Dawud 1681
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
42: باب فِي فَضْلِ سَقْىِ الْمَاءِ
باب: پانی پلانے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْمَاءُ"، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ.
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد (میری ماں) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی“۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: یہ ام سعد ۱؎ کا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1681]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا ثواب ام سعد رضی اللہ عنہا کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (3694) ابن ماجه (3684) ¤ ذكره الحاكم في المستدرك فقال الذهبي ”لا،فإنه غيرمتصل“ (تلخيص المستدرك: 1/ 414) ¤ يعني سعيد ابن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (3696) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1678، (تحفة الأشراف:3834) (حسن) (یہ روایت حدیث نمبر 1679 سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے)