سنن أبي داود حدیث نمبر: 1678
Sunan Abi Dawud 1678
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
41: باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟" قُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟" قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا.
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟“، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟“، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1678]
💡 وضاحت:
۱؎: گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہو گا، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (1912، 6030) ¤ أخرجه الترمذي (3675 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 16 (3675)، (تحفة الأشراف:10390)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 26 (1701) (حسن)