سنن أبي داود حدیث نمبر: 1675
Sunan Abi Dawud 1675
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
40: باب الرَّجُلِ يَخْرُجُ مِنْ مَالِهِ
باب: اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا، فَأَمَرَ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ، وَقَالَ: خُذْ ثَوْبَكَ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اپنے کپڑے لے لو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1675]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کو صرف دو کپڑے ملے تھے اور وہ اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ أخرجه النسائي (2537 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند الحميدي (741 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الجمعة 26 (409)، والزکاة 55 (2537)، (تحفة الأشراف:4274)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (511)،حم (3/25) (حسن)