سنن أبي داود حدیث نمبر: 1668
Sunan Abi Dawud 1668
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
35: باب الصَّدَقَةُ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمی کو صدقہ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا، قَالَ: " نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ".
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1668]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2620) صحيح مسلم (1003)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الھبة 29 (2620)، والجزیة 18 (3183)، والأدب 8 (5978)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1003)، (تحفة الأشراف: 15724)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344، 347، 355) (صحیح)