سنن أبي داود حدیث نمبر: 1654
Sunan Abi Dawud 1654
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
30: باب الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ
باب: بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ، زَادَ" أَبِي يُبَدِّلُهَا لَهُ".
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں (ابوعبیدہ نے) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1654]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا کہ آپ اس اونٹ کو جو آپ نے انہیں دیا تھا صدقہ کے اونٹ سے بدل دیں اس مفہوم کے لحاظ سے «من الصدقة“ ”يبدلها» سے متعلق ہو گا، ناکہ «أعطاها» سے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اونٹ صدقہ کے علاوہ مال سے دیا تھا، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو انہوں نے اسے بدلنا چاہا اس صورت میں خطابی اور بیہقی کی اس تاویل کی ضرورت نہیں جو انہوں نے اوپر والی حدیث کے سلسلہ میں کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الأعمش وحبيب مدلسان وعنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6350) (صحیح)