سنن أبي داود حدیث نمبر: 1648
Sunan Abi Dawud 1648
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
29: باب فِي الاِسْتِعْفَافِ
باب: سوال سے بچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ: " الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ"، وقَالَ أَكْثَرُهُمْ: عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، " الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ"، وقَالَ وَاحِدٌ: عَنْ حَمَّادٍ، " الْمُتَعَفِّفَةُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» (اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے)، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں: «اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے (یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1648]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایوب کے تلامذہ نے ایوب سے اس حدیث میں اختلاف کیا ہے بعض رواۃ (جیسے حماد بن زید وغیرہ) نے ایوب سے «اليد العليا المنفقة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے جیسا کہ مالک نے روایت کی ہے، اس کے برخلاف عبدالوارث نے ایوب سے «اليد العليا المتعففة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
۲؎: یعنی حماد کے تلامذہ نے بھی حماد سے روایت میں اختلاف کیا ہے ان کے اکثر تلامذہ نے ان سے «المنفقة» کا لفظ روایت کیا ہے، اور ایک راوی نے جو مسدد بن مسرہد ہیں ان سے «المتعففة» کا لفظ روایت کیا ہے۔
۲؎: یعنی حماد کے تلامذہ نے بھی حماد سے روایت میں اختلاف کیا ہے ان کے اکثر تلامذہ نے ان سے «المنفقة» کا لفظ روایت کیا ہے، اور ایک راوی نے جو مسدد بن مسرہد ہیں ان سے «المتعففة» کا لفظ روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق ورواية المتعففة شاذة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1429) صحيح مسلم (1033) ¤ قوله: ’’المتعففة‘‘ شاذ
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 18 (1429)، صحیح مسلم/الزکاة 32 (1033)، سنن النسائی/الزکاة 52 (2534)، (تحفة الأشراف:8337)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصدقة 2 (8)، مسند احمد (2/97)، سنن الدارمی/الزکاة 22 (1692) (صحیح)