سنن أبي داود حدیث نمبر: 1631
Sunan Abi Dawud 1631
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
24: باب مَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَحَدِّ الْغِنَى
باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1631]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ وللحديث شاھد عند البخاري (1476) ومسلم (1039)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12355)، وقد أخرجہ: خ /الزکاة 53 (1476)، وتفسیر البقرة 48 (4539)، صحیح مسلم/الزکاة 34 (1039)، سنن النسائی/الزکاة 76 (2572)، موطا امام مالک/ صفة النبی 5 (7)، مسند احمد (2/260، 316، 393، 445، 457)، سنن الدارمی/الزکاة 2 (1656) (صحیح)