سنن أبي داود حدیث نمبر: 1621
Sunan Abi Dawud 1621
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
21: باب مَنْ رَوَى نِصْفَ، صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ
باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ: قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ قال أَبُو دَاوُدَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ: : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ.
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ (جزم کے ساتھ بغیر شک کے) کہا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری (عبداللہ بن یزید) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1621]
💡 وضاحت:
۱؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔
۲؎: عدوی تصحیف ہے۔
۲؎: عدوی تصحیف ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن جريج عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65 ¤ ِ
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:2073) (صحیح)