سنن أبي داود حدیث نمبر: 1613
Sunan Abi Dawud 1613
کتاب #9: کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
20: باب كَمْ يُؤَدَّى فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر کتنا دیا جائے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، " فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ"، زَادَ مُوسَى: وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ فِيهِ: أَيُّوبُ وَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فِي حَدِيثِهِمَا: عَنْ نَافِعٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَيْضًا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ (نکرہ کے ساتھ) ذکر کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1613]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ وانظر الحديث السابق (1612)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 78 (1512)، (تحفة الأشراف:7795، 7815، 8171)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/55) (صحیح)