سنن أبي داود حدیث نمبر: 16
Sunan Abi Dawud 16
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
8: باب أَيَرُدُّ السَّلاَمَ وَهُوَ يَبُولُ
باب: کیا پیشاب کرتے وقت آدمی سلام کا جواب دے؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن) پیشاب کر رہے تھے (کہ اسی حالت میں) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 16]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (370)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 28 (370)، سنن الترمذی/الطھارة 67 (90)، الاستئذان 27/(2720)، سنن النسائی/الطھارة 33 (37)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 27 (353)، (تحفة الأشراف: 7696) (حسن)